- Center for Global Policy - https://www.cgpolicy.org -

India-Pakistan Conflict & US South Asian Strategy

پاکستانی اور بھارتی افواج چھبیس فروری سے ایک دوسرے کے ساتھ سرحدی جھڑپوں میں مصروف ہیں۔ یہ سلسلہ تب شروع ہوا جب نئی دہلی نے پاکستان پر پہلے فضائی حملہ کر کے وہاں موجود اسلامی عسکریت گروپ جیشِ محمد کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا، جس نے چودہ فروری کو بھارت کے نیم فوجی اہلکاروں پر خود کش حملہ کیا تھا جس میں چوالیس ہلاکتیں ہوئی تھیں۔
یہ حقیقت کہ انڈیا نے سرحد پار دہشتگردی سے متعلق اپنی عشروں پر محیط تحمل کی پالیسی کو خیرباد کہہ دیا ہے کا مطلب ہے کہ جنوبی ایشیا میں طویل المدتی تنازعے کا خطرہ بہت بڑھ گیا ہے۔ یہ صورت حال علاقے میں امریکی مفادات کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے اور وہ بھی خاص طور پر اس وقت جب ٹرمپ انتظامیہ ہمسایہ ملک افغانستان سے انخلاء کا راستہ ڈھونڈ رہی ہے۔ چنانچہ واشنگٹن کو چاہیے کہ ان دو نیوکلیئر حریفوں کے مابین جنگی تناؤ ختم کرنے کے لیے سفارتی قیادت کو حرکت میں لائے، اور اس سے بھی زیادہ اہم یہ بات ہے کہ وہ دو طرفہ نئے سیکیورٹی انتظامات کی ثالثی کا فریضہ بھی سر انجام دے۔

اٹھائیس فروری کو ہونے والی ملٹری پریس کانفرنس میں بھارتی فضائیہ کے ایک سینئر کمانڈر ائیر وائس مارشل آر جی کے کپور نے وزیراعظم پاکستان عمران خان کے بھارتی پائلٹ ونگ کمانڈر ابھینندن ورتھامن کی رہائی کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ یہ بھارتی پائلٹ 27 فروری کو اس وقت گرفتار ہوا تھا جب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں اس کا جہاز گرا دیا گیا تھا۔ اس کے 21_ MiG کی پاکستانی 16_F کے ساتھ دوبدو لڑائی تب ہوئی جب پاکستانی جہاز سرحد پار کر کے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں داخل ہو گیا اور وہاں موجود فوجیوں چوکیوں کو نشانہ بنایا۔ اسلام آباد کے جنگی جہاز نئی دہلی سے اس کے 26 فروری کے ہوائی حملے کا بدلہ لینے آئے تھے جو اس نے پاکستان کے صوبے خیبر پختونخواہ کے قصبے بالا کوٹ میں جیشِ محمد کے ٹھکانے پر کیا تھا۔

داخلی سیاست
تنازعے میں تیزی کا سبب ایک تو دونوں ممالک کی داخلی سیاست ہے اور دوسرا مسئلہ کشمیر ہے جس پر تنازعہ کا آغاز 1947 سے شروع ہو گیا تھا جب دونوں ممالک آزاد ہوئے تھے۔
پاکستانی وزیراعظم عمران خان کو اقتدار میں آئے ابھی صرف چھ ماہ ہوئے ہیں۔ انہوں نے یہ انتخابات “نیا پاکستان” بنانے کے وعدے ہر جیتے ہیں۔ انہوں نے ایک شفاف حکومت بنانے کا وعدہ کیا تھا جو بد عنوانی سے لڑے گی، نظر انداز کیے گئے انفراسٹرکچر کو ترقی دے گی اور معیشت پر اپنی توجہ اس طرح مرکوز کرے گی کہ نا صرف سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہوں بلکہ نوکریوں کی زیادہ گنجائش بھی نکلے۔ تاہم بڑے پیمانے پر ملکی قرضے اور خستہ حال معیشت نے عمران خان کو مجبور کیا کہ وہ اپنے حلیف ممالک چین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ترکی کی مدد مانگے کہ وہ پاکستان کے داخلی ایجنڈے پر سرمایہ کاری کریں۔ لیکن حزب اختلاف کی جماعتیں اس بنا پر خان پر تنقید کرتی نظر آتی ہیں کہ اس نے حلیف ممالک کے ساتھ غیر حقیقت پسندانہ معاہدے کیے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف انتہائی دائیں بازو کے مذہبی گروپ جیسے خادم حسین رضوی کی جماعت تحریک لبیک نے توہین رسالت اور اقلیتوں کے مذہبی حقوق کے معاملے پر خان کو تیز و تند تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

بھارت میں نریندرا مودی اپریل اور مئی میں ہونے والے انتخابات میں دوبارہ منتخب ہونے کے لیے کمر کس چکے ہیں۔ ناقدین کی نظر میں میں مودی کو بری نظم حکومت( گورننس)، اقتصادی مواقع پیدا کرنے میں نا اہلی اور دنیا کے سامنے انڈیا کا طاقتور تاثر پیش کرنے میں ناکامی کی بنا پر شدید مخالفت کا سامنا ہے۔ مودی کے نقطۂ نظر سے 14 فروری کے حملے نے اسے یہ موقع فراہم کیا ہے کہ وہ پارلیمانی چناؤ سے پہلے رائے عامہ کو اپنے حق میں متحرک کر سکے۔ وہ پہلے اپنے سابقہ ہم منصب من موہن سنگھ کو اس بنا پر شدید تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں کہ انہوں نے نومبر 2008 میں ممبئی پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے خلاف سخت کارروائی کرنے میں کمزوری کا مظاہرہ کیا تھا۔ نئی دہلی میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس حملے کے نتیجے میں ہونے والے خون خرابے کے ہر قطرے کا حساب لیں گے۔

امیت سنگھ جو مودی کی دائیں بازو کی ہندو قوم پرست م، ‘بھارتیہ جنتا پارٹی” (BJP ) کے صدر ہیں نے کہا ہے بھارت کسی قسم کی دہشت گردی کو برداشت نہیں کرے گا اور بھارت جیشِ محمد (JeM) کے خلاف مزید فضائی حملے بھی کرے گا۔

دریں اثنا بارڈر پار پاکستان میں بھی ایسے عسکری گروپ ہیں جن کا بے نامی استعمال تاریخی طور پر اسلام آباد اپنی قومی سیکیورٹی اور خارجہ پالیسی کے میدان میں کر چکا ہے۔ تاہم پاکستانی ملٹری انٹیلیجنس اسٹیبلشمنٹ کی عشروں پر محیط یہ پالیسی بد قسمتی سے اپنے اندر وہ اسٹریٹجک گہرائی نہیں رکھتی جس کی اسے خواہش تھی بلکہ اس نے الٹا اسے نقصان ہی پہنچایا ہے، کہ پاکستان اب اسلامی عسکریت پسندوں اور مذہبی شدت پسندی کا بڑا شکار بن چکا ہے۔ پاکستان اسی ہزار جانوں کی قربانی دے کر اب اس شیطانی شورش پر قابو پانے میں کامیاب ہو چکا ہے جس کا آغاز اٹھارہ سال قبل امریکہ کے افغانستان پر حملے سے ہوا تھا۔ تاہم وہ ان گروپوں کو لگامیں ڈالنے میں اب بھی یا تو ناکام ہے یا عدم دلچسپ ہے جنہوں نے نا صرف بھارت بلکہ افغانستان اور ایران میں بھی حملے کیے ہیں۔

یہاں تک کہ 2001 کے بھارتی پارلیمانی حملے اور 2008 کے ممبئی حملوں کے بعد امریکہ کے زیر قیادت ہونے والے ثالثی عمل میں پاکستان پر شدید دباؤ ڈالا گیا تھا کہ وہ لشکر طیبہ، جیشِ محمد و دیگر بھارت مخالف عسکری تنظیموں کو سختی سے کچلے، مگر اسلام آباد ایسا کرنے میں ناکام رہا ہے۔
لیکن اب جبکہ موجودہ تناؤ شدید بڑھ گیا ہے پاکستان کے لیے ضروری ہو گیا ہے کہ وہ جیشِ محمد جیسے گروپوں کا مکمل صفایا کرے جو نا صرف ملک کے قومی دفاع کے لیے خطرہ ہیں بلکہ اس کی تباہی سے دوچار سیاسی اقتصادیات کے لیے بھی خطرہ ہیں۔
اس کے ساتھ نئی دہلی کو بھی چاہیے کہ وہ علحیدگی پسند کشمیری جدوجہد کا حل گفت و شنید کے ذریعے نکالے، کیونکہ اس جدوجہد کو پاکستان کی پشت پناہی سے چلنے والی عسکری کاروائیوں کو غیر فعال کرنے کے باوجود ختم نہیں کیا جا سکا ہے۔
بھارت کو بھی چاہیے کہ وہ پاکستان کے بلوچستان اور سندھ کے صوبوں میں علیحدگی پسند تحریکوں کی حمایت کرنا، اکسانا اور مالی امداد کرنا بند کر دے اور افغانی انٹیلیجنس سروس کی مدد سے پشتون قومیت پرستی کو بڑھاوا دے کر پاکستان میں اختلاف رائے میں اضافہ نہ کرے۔

علاقائی پیچیدگیاں و غیر یقینی صورتحال
ستمبر 2018 سے افغان مفاہمت پر مامور امریکہ کا نمائندہ خصوصی زلمی خلیل زاد دنیا بھر کے دوروں میں مصروف ہے تاکہ وہ امن مذاکرات کے لیے طالبان اور افغان حکومت کو ایک میز پر لا سکے۔ اس کوشش میں کسی بھی قسم کی کامیابی کے لیے وہ پاکستان کے تعاون پر بہت زیادہ انحصار کر رہا ہے۔ خلیل زاد کے وسطی ایشیائی ممالک، خلیج ریاستوں، افغانستان اور پاکستان کے یکے بعد دیگرے دورے اس ضمن میں ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کی اس ترجیح کا مظہر ہیں جو اس نے افغانستان سے اپنی فوجی دستوں کی ایک بڑی تعداد واپس بلانے سے پہلے اپنائی ہے۔ چھ ماہ تک مختلف اسٹیک ہولڈرز سے ملنے کے بعد خلیل زاد پاکستان کی وساطت سے دوہا میں طالبان کے ایک بانی رکن ُملا عبدالغنی برادر کے ساتھ ایک ملاقات کرنے میں کامیاب ہو سکا ہے۔ طالبان مذاکرات کی وجہ سے اسلام آباد_ واشنگٹن بدلتی صورتحال کا مطلب ہے کہ واشنگٹن بہت گہرے دباؤ میں ہے کہ وہ پاکستان اور بھارت کے بیچ فوری اعتماد سازی اور تناؤ میں کمی کے لیے سفارتی دباؤ کا استعمال کرے۔ یہ صورت حال اس بات کی متقاضی ہے کہ واشنگٹن پاکستان سے اپنے باہمی مفادات پر مبنی تعلقات کا از سر نو جائزہ لے۔

امریکی سیکرٹری سٹیٹ مائیک پومپو نے پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج سے ملاقات کی ہے تاکہ دونوں ممالک کشمیر بحران کے ساتھ اس بڑھتے ہوئے جنگی تناؤ سے خود کو بچائیں اور تحمل سے کام لیں۔ سفارتی زبان طاقتور ہوتی ہے لیکن اسکا استعمال محدود ہوتا ہے۔ واشنگٹن کو اسلام آباد کے ساتھ سفارتکاری کے ذریعے اس بحران کو پر امن طریقے سے ختم کرنے کے لیے ایک تاریخ ساز آغاز ملا ہے۔ واشنگٹن کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ پاکستان کو بتائے کہ دو طرفہ تعلقات صرف علاقائی سیکیورٹی تک محدود رہنے کا نام نہیں، بلکہ بہت سے اہم سیاسی اور اقتصادی مفادات داؤ پر لگے ہوتے ہیں۔

فعال سفارتکاری
ٹرمپ انتظامیہ کو اگر جنوبی ایشیا میں سفارتی کامیابی چاہیے تو اسے یقینی طور پر چند اقدامات لینے ہوں گے۔
اول، امریکی پالیسی سازوں کو چاہیے کہ وہ موجودہ پاک بھارت بحران میں حکمت عملی کے وسیع تر مقاصد اور مواقع سے آگاہ رہیں۔ بحران کے عارضی حل کا نتیجہ دونوں ممالک کی طرف سے پہلے سے زیادہ فوجی طاقت دکھانے اور زیادہ خطرہ برداشت کرنے کی صورت میں نکل سکتا ہے۔
پاکستان کی سست معیشت اور بھارتی بے جان بازار حصص میں جذباتی وطن پرستی میں تو تیزی سے اضافہ ممکن ہے، لیکن دونوں مارکیٹوں کو اس تنازعے کے باعث ہونے والے نقصان کا اندازہ بھی ہو جائے گا۔

دوم، اگر دو طرفہ پاک امریکہ تعلقات کو احتیاط سے آگے بڑھایا جائے تو یہ براہ راست اس خیال کو تبدیل کر دے گا جو اسلام آباد میں موجود ہے۔ جس کے مطابق امریکہ پاکستان مخالف اور بھارت نواز ہے۔ اور پاکستان سے عدم دلچسپی رکھتا ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے 2018 کی ٹویٹ میں بہت جرات سے کہا تھا کہ پاکستان جھوٹا اور دھوکے باز ہے اور یہ دہشت گردوں کو محفوظ ٹھکانے فراہم کرتا ہے۔ اس نےکھلے عام پاکستان کو ایک نا قابل بھروسہ اتحادی کہا تھا جو حریف سپر پاور چین کے ساتھ مل کر اس جے لیے جیو پولیٹیکل چیلنجز پیدا کرتا ہے۔

سوم، یہ بات بہت اہم ہے کہ وائٹ ہاؤس اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان اندرونی ڈائنامکس/حرکیات کی صحیح تشریح کرے اور طے شدہ پالیسی فریم ورک میں نہ پھنس جائے۔
پاک بھارت بحران دوبارہ منظر پر آیا ہے۔ اسے “دہشتگردی پر عالمی جنگ” کے فریم ورک یا “ریاستی پشت پناہی پر مبنی دہشت گردی” تک محدود نہ کیا جائے۔ پاکستان کو انڈیا اور پاکستان کے درمیان تناؤ کو کمتر درجے کا خیال کرنا نا دانستہ طور پر ٹینشن میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ اگر امریکہ پاک بھارت تنازعے کی شدت کو سفارتی اثر و رسوخ سے حل کرنے میں ناکام ہو جاتا ہے تو دیگر بڑی طاقتیں جیسے چین اور روس ہیں یہ گمان کریں گی کہ امریکہ اہلیت یا ارادے کی کمی کا شکار ہے۔ چنانچہ اس خلا کو یہ طاقتیں پر کر دیں گی۔ یہ بات واشنگٹن کی قابل بھروسہ ہونے کی ساکھ کو کھوکھلا کر دے گی اور افغان امن مذاکرات وسیع استحکام کے معاملات اور علاقے میں اقتصادی مفادات کو بھی مشکوک کر دے گی۔

Dr. Qamar-ul Huda is Director of the Conflict, Stabilization and Development program at the Center for Global Policy (CGP). Prior to joining CGP, Dr. Huda was a Senior Policy Advisor to the U.S. Department of State Secretary’s Office of Religion and Global Affairs. He tweets at @qbhuda. The views expressed herein are the author’s and do not necessarily reflect those of CGP.

This article was published by Daanish on March 5, 2019.